ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مادری زبان میں تعلیم سے علاقائی زبان کا تحفظ ممکن،کنڑا کے مفادات سے چھیڑ چھاڑ ناقابل برداشت ،راجیواتسوا تقریب سے سدرامیا کا خطاب

مادری زبان میں تعلیم سے علاقائی زبان کا تحفظ ممکن،کنڑا کے مفادات سے چھیڑ چھاڑ ناقابل برداشت ،راجیواتسوا تقریب سے سدرامیا کا خطاب

Thu, 02 Nov 2017 12:08:04    S.O. News Service

بنگلورو،یکم نومبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہا کہ عنقریب وہ وزیر اعظم کو ایک مکتوب لکھ کر گذارش کریں گے کہ مادری زبان میں بنیادی تعلیم دینے کے سلسلے میں آئینی ترمیم جلد منظور کی جائے ،تاکہ علاقائی زبانوں کا تحفظ کیا جاسکے۔ آج کرناٹکا راجیواتسوا کے موقع پر کنٹیروا اسٹیڈیم میں محکمۂ تعلیمات کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ مادری زبان میں تعلیم دینے کے متعلق سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس کا اطلاق کرتے ہوئے کنڑا کے مفادات کو نقصان پہنچایا نہیں جاسکتا ،بلکہ ملک کی تمام علاقائی زبانوں کو جس طرح کا خطرہ لاحق ہے اس سے بچانے کیلئے وزیراعظم کو چاہئے کہ تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ طلب کریں ۔اس سلسلے میں وہ خود وزیراعظم کو مکتوب روانہ کریں گے اور علاقائی زبانوں کی حفاظت کیلئے ضروری قدم اٹھانے کی گذارش کریں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنیادی تعلیم متعلقہ ریاستوں کی مادری زبان میں دی جانی چاہئے۔وفاقی نظام کے تحت تمام ریاستوں کو اپنی اپنی زبانوں کی حفاظت کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ وزیراعلیٰ نے کرناٹک میں کنڑا کو ہی مقدم قرار دیتے ہوئے کہاکہ کنڑا زبان کرناٹک کی زمین ،پانی اور دیگر مفادات سے کسی طرح کی مصالحت نہیں کی جائے گی۔ ان مفادات کی حفاظت ریاستی حکومت سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ کنڑا کو پروان چڑھانے کیلئے ریاست میں بسنے والے ہر شہری کو جدوجہد کرنی ہوگی۔ یہاں بسنے والے ہر ایک کو کنڑا زبان لازمی طور پر سیکھنی ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ کنڑا کے معاملہ میں کسی طرح کی مصالحت یا نرمی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ حکومت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ بعض نجی اسکولوں میں کنڑا بول چال پر طلبا کو سزا دی گئی ہے اور ان پر جرمانہ عائد کیاگیا ہے۔ ریاستی حکومت ایسے تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کر ے گی۔ انہوں نے کہاکہ عوام میں یہ غلط تاثر بٹھادیا گیا ہے کہ کنڑا اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے چالاک نہیں ہوتے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے کنڑا زبان کو ترقی دینے کیلئے جو قدم اٹھائے جارہے ہیں ان کی بدولت کنڑا زبان کو تعلیمی اعتبار سے مستحکم کرنے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ اپنے بچوں کو کنڑا زبان سکھانے کی طرف متوجہ ہوں۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح نجی اسکولوں میں معیاری تعلیم دی جاتی ہے ریاستی حکومت کا بھی یہ منشاء ہے کہ سرکاری اسکولوں کے معیار تعلیم کو اس نہج تک لایا جائے۔ اس کیلئے چند اہم پروگرام ترتیب دئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ کنڑا اسکولوں میں ایک یا دو بچے بھی اگر ہیں تو ان اسکولوں کو قطعاً بند نہیں کیا جائے گا۔ ساتھ ہی سی بی ایس سی اور آئی سی ایس سی نصاب کے تحت تعلیم سے آراستہ کرنے والے اسکولوں پر لازمی قرار دیاگیا ہے کہ وہ کنڑا کو ایک موضوع کے طور پر سکھانے کا انتظام کریں۔ سدرامیا نے کہاکہ کرناٹک کے متحد ہونے کے 61 سالوں کے دوران ریاست میں کافی ترقی ہوئی ہے، لیکن علاقائی زبان کی حفاظت کیلئے پڑوسی ریاستوں میں جس قدر کام ہوا ہے وہ کرناٹک میں ندارد، ریاستی حکومت نے حکم جاری کیا ہے کہ تمام سرکاری اسکولوں میں پہلی جماعت سے انگریزی تعلیم کا اہتمام کیا جائے ۔ اسی طرح تمام انگریزی اسکولوں میں پہلی جماعت سے کنڑا کو ایک موضوع کے طور پر سکھانے کا لزوم بھی کیاجائے گا۔تقریب میں ریاستی وزراء جناب روشن بیگ ، تنویر سیٹھ ، کے جے جارج، محکمۂ تعلیمات کے اعلیٰ افسران رجنیش گوئل ، شالنی رجنیش ، ڈاکٹر پی سی جعفر اور دیگر موجود تھے۔


Share: